نئی دہلی،30/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اناؤ عصمت دری معاملے کی متاثرہ کے چچاکواپنی بیوی کے آخری رسومات میں شامل ہونے کے لئے ایک دن کی پیرول منگل کو منظور کر دی۔عدالت نے رائے بریلی جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ کے چچا کو سخت سیکورٹی کے درمیان گنگا گھاٹ پر اس کی بیوی کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے لئے لے جایا جائے۔ساتھ ہی عدالت نے ہائی کورٹ کے سینئر رجسٹرار کو بھی ہدایات دی ہیں کہ وہ اس حکم کے تحت رائے بریلی جیل اور ضلع انتظامیہ کو فورا پہنچائیں۔جسٹس محمد رفیع خان کی بنچ نے یہ حکم متاثرہ کے چچا کی درخواست پر دیا ہے جنہوں نے اپنی بیوی کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے لئے 1 دن کے پیرول کی عرضی دی تھی۔وہ اناؤ ریپ کیس کے ملزم بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے بھائی پر جان سے مارنے کے الزام میں رائے بریلی جیل میں بند ہیں۔آپ کو بتا دیں کہ اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ کی خالہ، چاچی اور وکیل کے ساتھ اپنے چچا سے ملنے رائے بریلی گئی تھی۔واپس لوٹتے وقت ان کی کار کو ایک ٹرک نے ٹکر مار دی جس میں خالہ اور چاچی کی موت ہو گئی جبکہ متاثرہ اور ان کا وکیل شدید زخمی ہو گئے۔متاثرہ خاندان نے الزام لگایا ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے ریپ کے ملزم ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کا ہاتھ ہے۔وہ جیل کے اندر سے فون کر دھمکی دیتے تھے کہ زندہ رہنا چاہتے ہو تو عدالت میں بیان بدل دو۔فی الحال اس واقعہ کی تفتیش سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔وہیں اس معاملے کی آواز لوک سبھا میں بھی سنائی دی ہے۔کانگریس نے اس معاملے میں وزیر داخلہ امت شاہ سے جواب مانگا ہے۔دوسری طرف ایس پی لیڈر اکھلیش یادو نے ریٹائرڈ جج سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔